Ayesha & Hafsa

Saturday, December 22, 2012

امی عائشہ کا حدیثیں بیان کرنے میں ذاتی


جناب عائشہ کی سیرت سے یہ بات یقینی طور پر معلقم ہوتی ہے کہ وہ رسول اللہ صہ احادیث بیان کرنے میں اپنے طبعی میلان کی پرواہ نہیں کرتی تھی اور اپنی ذاتی اعراض کا کوئی خیال نہیں فرماتی تھیں میری یار لوگوں سے درخؤاست ہے کہ تقلید اور جنبہ داری سے الگ ہوکر بھی ایک نظر ان کی سیرت نظر پر ڈالیں-

جناب عثمان کے ساتھہ قولاَ اور فعلاًَ ان کو جو طرز رہا اور مولا علی جناب سیدۂ و حسنینٔ کے ساتھہ در پردہ کھلم کھلا جو ان کا برتاؤ رہا اور دیگر ازواج کے ساتھہ جو سلوک رہا بلکہ میں
تو کہتا ہوں کہ رسول کے ساتھہ جس طرح وہ پیش آئیں اسے نہ بھولیئے گا
جناب عائشہ نے رسول اللہ سے کہا تھا کہ
مجھے آپ سے مغافیر کی بو آتی ہے
بخاری سورۃ التحریم کی تشریح
اس میں* بھی امی عائشہ کا طبعی میلان اور ذاتی جذبہ کار فرما تھا غرض یہ تھی کہ آنحضرت جناب زینب کے پاس نہ جائے نہ شہد نوش فرمائیں

وہ واقعہ بھی یاد کیجئے کہ جب اسماء بنت نعمان دلہن بنا کر رسول صہ کی خدمت میں پیش کی گعی تو جناب عائشہ نے انھیں پٹی پرھائیں کہ رسول اللہ صہ اس عورت سے بہت خوش ہوتے ہیں جو رسول کے آںے پر اعوذبااللہ منک(خدا مجھے آپ سے بچائیں)کہے

امام حاکم نے مستدرک جلد سوم بسلسلہ اسماء میں لکھا ہے

طبقات ابن سعد جلد دوم بسلسلہ اسماء کے حالات میں لکھا ہے

جناب عائشہ اپنی غرض کی دھن میں اس قسم کی حدیثیں بخوبی جائز سمجھتی تھیں چاہے وہ غرض ذلیل و رکیک بلکہ حرام ہی کیوں نہ ہو

آپ صہ نے ایک مرتبہ جناب عائشہ سے ایک عورت کے متعلق کچھہ باتیں دریافت کرنے کو کہا جنجاب عائشہ نے اپنی غرض کے خیال سے رسول کو غلط سلط باتیں بتادیں صحیح حالات کے علم ہی نہ ہونے دیا
کنزالعمال جلد چہارم ص 294 نیز طبقات ابن سعد جلد 8 ص 115


ایک مرتبہ اپنے باپ کے سامنے رسول سے جگھر پریں اس کا سبب وہی میلان طبیعت ذاتی جذبات و اغراض تھے اور رسول صہ سے بولیں کہ انصاف سے کام لیجئے

کنز العمال جلد 7 صہ 116 نیز احیاء العلوم الدین جلد دوم باب کتاب النکاح

امام غزالی کتاب کاشفہ القلوب باب 94 ص 238

ایک مرتبہ رسول سے بگھر گعیں اور غصہ سے بولیں

آپ ہی ہے جو وہ دعوی کرتے ہیں کہ میں خدا کا نبی ہوں

جیسا کہ امام غزالی نے اس بات کا اعتراف کیا

اب یار لوگ بتانا پسند کریں گے کہ جن سے تم لوگوں نے آدھا دین لیا ہے جس راوی کے یہ حال ہے کہ ہر چیز اپنی جذبات سے بیان کی جاتی ہو تو آپ کے دین کا کیا حال ہوگا؟؟؟

میں جھوٹ تب بولتا جب یہ باتیں آپ کی معتبر کتابوں میں نہ ہوتی اگر وقت ملا تو بقایا کتابوں کے بھی اسکین پیجز اپلود کردیے جائیں گے


Posted by abdullah at 9:28 AM
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest
Labels: Arabic - العربية, Urdu

No comments:

Post a Comment

Older Post Home
Subscribe to: Post Comments (Atom)

Followers

Blog Archive

  • ▼  2012 (13)
    • ▼  December (4)
      • امی عائشہ کا حدیثیں بیان کرنے میں ذاتی
      • Aisha's Leading Role in Killing of Uthman
      • Is Bibi Aisha Siddiqa/Truthful? - Sayyid Kamal al-...
      • ناصبی حضرات عاِئشہ کی فضیلت بڑھانے کے لئے
    • ►  October (1)
    • ►  June (1)
    • ►  April (2)
    • ►  March (2)
    • ►  February (3)
  • ►  2011 (5)
    • ►  March (3)
    • ►  February (2)

Contributors

  • Abu Talha
  • Najib
  • abdullah
Travel theme. Powered by Blogger.