اس کی ابتداء علامہ مناوی{ شارح سنن ترمذی }کی کتاب سے کرتے ہیں جس میں جناب سیدہ [س] کی خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے افضل ترین خاتون جناب سیدہ کو قرار دیتے ہیں اور اس پر کئے طریقوں سے استدلال کرتے ہیں
لھذا ان کےمکمل استدلال کو بیان کرنا فائدہ سے خالی نہیں ہے۔
وہ لکھتے ہیں : کہ سیدہ کی پہلی فضیلت یہ ہے اس امت کی افضل ترین خاتون
ہیں ، امام احمد ، حاکم ، اور طبرانی نے
ابو سعید خدری سے صحیح سند روایت کی
ہے کہ فاطمہ[س] سیدہ و سردارزنان جنت
ہے سوائے مریم کےدوسری رویات
صحیحہ میں ہے سوائے مریم بنت عمران کے پس یہاں
سے معلوم ہوا کہ حضرت
فاطمہ [س] اپنی والدہ خدیجہ سے بھی افضل ہیں جو
روایت یہ احتمال دیتی ہیں کہ
جناب خدیجہ[س] حضرت فاطمہ[س] سے افضل ہیں وہ
فقط والدہ کے اعتبار سے
ہیں اسی طرح حدیث حضرت عائشہ سے صحیح اور درست وارد
ہوا ہے سبکی
نے
کہا ہے کہ میرا نظریہ اور میرا دین یہ ہے کہ فاطمہ [سلام اللہ علیہا]
افضل ہیں پھر
ان کے بعد جناب خدیجہ [سلام اللہ علیہا] پھر انکے بعد جناب
عائشہ ہیں
///////////////////////////
علامہ مناوی آگے صفحہ ۸۷ پر لکھتے ہیں کہ :
اس امت کی تمام خواتین پر جناب سیدہ [س] فضلیت میں کوئی شبہ نہیں ہے مطلقا {ہر جہت سے}بلکہ کافی علماء نے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ جناب سیدہ [س] اور انکے بھائی ابراھیم [س] تمام صحابہ سے افضل ہیں یہاں تک کے چار خلیفہ{ابوبکر،عمر ،عثمان ۔ امام علی [ع] پر بھی فضیلت رکھتے ہیں اور ان سے افضل ہیں
اس امت کی تمام خواتین پر جناب سیدہ [س] فضلیت میں کوئی شبہ نہیں ہے مطلقا {ہر جہت سے}بلکہ کافی علماء نے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ جناب سیدہ [س] اور انکے بھائی ابراھیم [س] تمام صحابہ سے افضل ہیں یہاں تک کے چار خلیفہ{ابوبکر،عمر ،عثمان ۔ امام علی [ع] پر بھی فضیلت رکھتے ہیں اور ان سے افضل ہیں
No comments:
Post a Comment